تازہ ترین
Home / ورلڈ / دو سال میں 113افراد نے میرے جسم کےساتھ کھیلا،لڑکی نے خوفناک سچ بتا دیا

دو سال میں 113افراد نے میرے جسم کےساتھ کھیلا،لڑکی نے خوفناک سچ بتا دیا

rape in india

نئی دہلی ۔(گیٹ نیوز)بھارتی شہر نئی دہلی میں بس ریپ کیس کے بعد تو جیسے بھارتی لوگوں کو اور ہوا مل گئی ہے اور اس کیس کے بعد اب تک مزید کئی ایسے ریپ کیس سامنے آ چکے ہیں تاہم حال ہی میں ایک ایسا ریپ کیس منظر عام پر آیا ہے جس کے بارے میں سوچ کر انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ 113 افراد نے جنسی زیادتی کی اور نئی دہلی جو اب ریپ سٹی کے نام سے مشہور ہو گیا ہے اس پر ایک اور دھبہ لگ گیا ہے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مسلسل 2سال تک درندگی کا نشانہ بننے والی والدین سے محروم یہ لڑکی اپنی دادی کے پاس رہتی تھی، جو چائے کا کھوکھا چلاتی تھیں۔ بھنڈاری نامی ایک شخص ان کے پاس اکثر سگریٹ لینے آتا، ایک روز اس کی نظر نوعمر لڑکی پر پڑی تو اس نے لڑکی کی دادی کو پیشکش کی کہ وہ اسے پونے شہر میں اچھی ملازمت دلواسکتا ہے۔ دھوکہ باز شخص نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے معمر خاتون کو راضی کرلیا اور لڑکی کو ملازمت دلوانے کے بہانے پونے شہر لے آیا۔ شہر لا کراس شخص نے خود اور اس کے ساتھیوں نے بھی لڑکی کو جنسی ہوس کا نشانہ بناناشروع کردیا۔ اس دوران مظلوم لڑکی کو پونے سے حیدرآباد، احمد آباد اور بھوپال بھی لیجایا گیا۔ ان تمام شہروں میں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایک دفعہ پھر اسے پونے واپس لاکر نیاتی امپائر سوسائٹی کے ایک فلیٹ میں رکھا گیا۔ یہاں اس کے ساتھ ایک 24 سالہ ماڈل گرل بھی موجود تھی جسے فلموں میں کام کا جھانسہ دے کر جسم فروشی پر مجبور کردیا گیا تھا۔ ان لڑکیوں پر جسمانی تشدد بھی کیا جاتا تھا اور نوعمر لڑکی کے حاملہ ہونے پر اسے زبردستی اسقاط حمل پر بھی مجبور کیا گیا تھا۔ ایک روز ان دونوں لڑکیوں کو فلیٹ سے نکلنے کا موقع مل گیا اور یہ پونے سے فرار ہوکر دلی شہر پہنچ گئیں جہاں انہوں نے پولیس اسٹیشن سب کچھ بتایا ۔ پونے شہر کے ومان نگر پولیس سٹیشن کے عملے کا کہنا تھا کہ کچھ ملزموں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

 

سابقہ پوسٹ
اگلی پوسٹ

Check Also

Italy tourism destinations

عوام خوشی سے جھوم اٹھے،18سال کا ہوتے ہی مالا مال ہو جائیں گے

نیو یارک۔(گیٹ نیوز) ترقی یافتہ اور ترقی پذی ممالک میں بڑا فر ق وہاں کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.