تازہ ترین
Home / ورلڈ / تعلیم کے حصول کےلئے جسم فروشی ؟ جی ہاں 1لاکھ ساٹھ ہزار طلبہ فیس کےلئے جسم بیچنے پر مجبور

تعلیم کے حصول کےلئے جسم فروشی ؟ جی ہاں 1لاکھ ساٹھ ہزار طلبہ فیس کےلئے جسم بیچنے پر مجبور

prositution for education

نیو یارک ۔(گیٹ نیوز) تعلیم میں جسم فروشی کو ایک برائی سمجھا جاتا ہے لیکن برطانیہ،امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں مہنگی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے طالب علم لڑکیوں کی جسم فروشی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. اس معاملے کا ایک اور زیادہ اخلاق سوز پہلو “شوگر بے بی, شوگر ڈیڈی” قسم کے جنسی رجحانوں میں اضافہ ہے. اس قسم کی ایک ویب سروس کے مطابق اس کے 50 لاکھ ممبروں میں سے 14 لاکھ ممبرز طالب علم ہیں. برطانیہ میں 2012 میں یونیورسٹی سطح کی تعلیم کی قیمت میں اضافے کے سبب اس ویب سروس کے زریعے جسم فروشی کرنے والی طالب علم لڑکیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ان کی تعدادایک لاکھ 60ہزار تک پہنچ گئی. تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے جسم فروشی کرنا اور اس طرح کہ “شوگر بے بی” بن کر “شوگر ڈیڈی” کی جنسی ہوس کی تسکین کرنا سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی اخلاقی اقدار کے تعفن زدہ ہونے, اس کے انسان دشمن, علم دشمن اور عورت دشمن ہونے کا بدترین ثبوت ہے. یہ لبرل معیشت کی وہ حیوانی لبرل آزادی ہے جس میں دولت مندوں عمررسیدہ مردوں کو غریب لڑکیوں کے جسم کو نوچنے کی اور غریب لڑکیوں کو اپنا جسم بیچنے کی آزادی ہے۔

 

سابقہ پوسٹ
اگلی پوسٹ

Check Also

Italy tourism destinations

عوام خوشی سے جھوم اٹھے،18سال کا ہوتے ہی مالا مال ہو جائیں گے

نیو یارک۔(گیٹ نیوز) ترقی یافتہ اور ترقی پذی ممالک میں بڑا فر ق وہاں کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.